اختر الایمان

اختر الایمان  12 نومبر 1915 بجنور (اترپردیش) کی تحصیل نجیب آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ولادت 1915ء میں پتھر گنج، نجیب آباد ، بجنور ضلع، اتر پردیش، بھارت میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بجنور میں ہی حاصل کی جہاں ان کی ملاقات اردو شاعر خورشید الاسلام سے ہوئی۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں معلم تھے اور رالف رسل سے ان کا گہرا واسطہ تھا۔ اختر الایمان نے ذاکر حسین دہلی کالج سے گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔ یوں تو اردو شاعری میں غزل کا بول بالا رہا ہے اور ابتداءا ہر شاعر غزل میں طبع آزامائی کرتا ہے مگر اخترالایمان نے غزل کی بجائے نظم کو ترجیح دی اور ایک کامیاب نظم کے شاعر بن کر ابھرے۔ یہ بات الگ ہے کہ ان کی زبان غیر شاعرانہ ہے۔ لیکن ان کا پیغام بہت مؤثر ہے۔ اس قلمی نام کو چننے کی وجہ یہ تھی کہ اس سے 1334ھ کا سال نکلتا ہے جو 1915ء اور 1916ء کو محیط ہے۔ اختر الایمان کی ولادت 12 نومبر 1915ء کو ہوئی تھی۔تعلیم اور ابتدائی ملازمت اختر الایمان نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا تھا۔انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔اس کے بعد کچھ عرصے تک وہ محکمہ سول سپلائز سے جڑے رہے۔ پھر انہوں نے آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں بھی کام کیا تھا ۔اختر الایمان ابتدائی ملازمتوں کے بعد میں فلموں میں کرنے سے پہلے پونے گئے تھے۔پھر وہ ممبئی نقلِ مقام کر گئے تھے جہاں تاحیات فلموں میں مکالمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اختر الایمان کی تصانیف میں ایک منظوم ڈراما بعنوان “سب رنگ“ 1948ء میں چھپا تھا۔ ان کے کلام کے مجموعے کا عنوان “یادیں “ تھا۔ اسے 1962ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔ انکا آخری مجموعہ کلام ان کے انتقال کے بعد “زمستان سرد مہری کا “ کے نام سے شائع ہوا تھا۔اخترالایمان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے روایتی شعری وضع داری سے خود کو الگ رکھا۔ ان کی شاعری کو فکری لحاظ سے “اس عہد کا ضمیر“ کہا گیا ہے ۔9مارچ 1996 کو عارضہ قلب میں ان کا انتقال ہو گیا اور اسی کے ساتھ اردو نظم اپنے اک عظیم فرزند سے محروم ہو گئی۔